رشاد یو
چانا چنا۔۔۔ چنا لےلو ۔۔۔ ایک فقیر لڑکا جہاز کے اندر آيا اور سب کے سامنے آکر چنا لےلو کہنے لگا۔ آخر وہ میرے پاس آیا اور چنا لے لو بولا تو میں پانچ روپے سے ایک پیکٹ چنا لے کر جیب میں رکھ لیا۔ اس کے بعد میں نے اس فقیر لڑکے کو دیکھا تو وہ اپنی کمائ میں بہت جدووجہد کرتا ہے۔ آخر وہ ایک کمرے میں داخل ہوا جہاں پر دوسرے فقیر بھی رہتے تھے۔ فقیروں کی اس کثرت کو دیکھ میں حیران ہو گیا۔ کچھ وقت کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس چلا گیا اور آرام کی غرض سے میں لیٹ گیا۔
شام کا وقت گزرگیا اور رات کا وقت شروع ہو گیا تھا۔ دروازہ کھول کر میں جہاز کے باہر دیکہا تو میں خوب صورت منظر دیکھا جس میں چلتی ہوئ جہازیں اور کشتیاں ایک دلکش منظر پیدا کر رہے تھے جسے دیکھ کر میرا دل مچل گیا۔یہ منظر بہت خوب صورت تھا اور سمندر کالا رنگ کی طرح تھا۔ اب بھی میں ان فقیروں کو یاد کرتا ہوں "بیٹا آؤ اب کھانا کھالو " میری ماں مجھکو بلائ تو میں کھانا لے کر اپنے جیب میں رکھا اور اپنی ماں کو پکڑ کر فقیروں کے کمرے میں گیا اور اپنا کھانا ایک چھوٹی بچی کو دیا جسے دیکھ کر سارے فقیر خوش ہوۓ اور مجھے اپنی دعاؤں سے نوازہ اور اس کے بعد وہ لوگ بھی اپنے کھانے میں مشغول ہو گۓ۔ اس بعد میں میری ماں کے ساتھ اپنے کمرے میں واپس آگیا۔
اللہ اکبر ! میرے ابو سمندر میں گر گۓ، بچاؤ بچاؤ کہ کر زور سے چلانے لگا۔ میری آواز سن کر سارے فقیر بھاگ کر آۓ اور میرے ابو کو بچا لۓ۔
کچھ دیر کے بعد میرے ابو نے جب آنکھ کھولا تو امی نے بتایا کہ ان فقیروں نے آپ کو بچایا ہے۔ یہ سن کر میرے ابو نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے مجھے کیوں بچایا تو فقیروں نے جواب دیا کہ آپ کے بیٹے نے ہم کو کھانا کھلایا اس کے بدلے میں ہم نے آپ کی جان بچائ ہے۔ یہ سن کر میرے والد میری تعریف کرکے مجھے اور تمام فقیروں کو دعا دۓ اور وہ سب اپنے کمرے میں چلے گۓ۔
دوستوں! اگر ہم لوگوں کے ساتھ بھلائ کرتے ہیں تو لوگ بھی ہمارے ساتھ بھلائ کرتے ہیں اس لۓ ہم کو ہر وقت بھلائ کرنا چاہۓ۔
رشاد یو
سینئر سیکنڈری فائنل سال
كلية معونة الإسلام العربية ، بوثوبونان

0 Comments